نئی دہلی،14فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش کی سیاست میں لوک سبھا انتخابات سے پہلے بہت سے موڑ آنے باقی ہیں۔ یوپی میں اتحاد کی سیاست اپنے عروج پر ہے اور اب خبر ہے کہ کانگریس سے ہاتھ ملانے کی کوشش میں شیو پال سنگھ یادو لگ گئے ہیں۔
وکاس شیل سوشلسٹ پارٹی (لوہیا) کے بانی اور چیف شیوپال یادو نے پرینکا گاندھی کو فون کیا اور ان سے ملنے کا وقت مانگا ہے، اگرچہ پرینکا نے فون پر شیو پال یادو سے واضح کہہ دیا ہے کہ ابھی ان کے پاس وقت نہیں ہے، 2۔3 دن بعد ہی وہ ان سے مل پائیں گی۔ پرینکا نے شیو پال سے کہا ہے کہ فی الحال وہ مصروف ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ پرینکا گاندھی سے شیو پال یادو اتحاد کو لے کر بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ ایسی خبر ہے کہ شیو پال یادو کانگریس سے 20 سیٹوں پر تال میل کرنا چاہتے ہیں، اگرچہ پرینکا گاندھی نے فورا ملنے سے انکار کر دیا ہے اور انہوں نے وقت نہ ہونے کا حوالہ دیا ہے، مگر انہوں نے کہا ہے کہ وہ دو تین دن بعد ان سے مل سکتی ہیں۔
بتا دیں کہ وکاس شیل سوشلسٹ پارٹی لوہیا بنانے والے شیو پال سنگھ یادو کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان چابی الاٹ کر دیا ہے۔اس سے پہلے بھی شیو پال کانگریس کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنے کی منشا جتا چکے ہیں، حالانکہ کانگریس سے ابھی کھل کر انہیں اشارہ نہیں ملا ہے۔ ایس پی اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے اتحاد کے بعد سے ہی شیو پال کانگریس کے ساتھ اتحاد کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔شیو پال اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ کانگریس بھی ایک سیکولر پارٹی ہے اور اگر وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شکست دینے کے لئے ہم سے رابطہ کرتی ہے تو ہم اس کی حمایت کریں گے، کئی بار شیوپال بھی کہ چکے ہیں کہ ہمارے بغیر کوئی بھی اتحاد بی جے پی کو شکست نہیں دے سکتا ہے۔
بتا دیں کہ اکھلیش یادو کے ساتھ کشیدگی کے بعد شیو پال یادو نے اپنی ایک الگ پارٹی بنائی تھی۔دراصل یوپی کی سیاست میں سب سے بڑا موڑ اس وقت آیا تھا، جب جنوری میں ایس پی۔بی ایس پی نے رسمی اعلان کیا کہ دونوں پارٹیاں یوپی کی 38۔38 لوک سبھا سیٹوں پر مل کر الیکشن لڑیں گی۔ اکھلیش اور مایاوتی نے بی ایس پی۔ایس پی اتحاد سے کانگریس کوالگ رکھ کر سب کو چونکا دیا تھا۔ اس کے بعد ہی راہل گاندھی نے پرینکا گاندھی کو سیاست میں اتارنے کا فیصلہ کیا اور انہیں جنرل سکریٹری بنایا۔ بتا دیں کہ پرینکا کو کانگریس نے مشرقی یوپی کی کمان دی ہے اور یوپی میں سارا دارومدار پرینکا گاندھی کے اوپر ہی ہے۔